Thursday, December 24, 2020

Professional beggaپیشہ ور بھکاری٠٠٠

ہاتھ پیھلانا یا بھیک مانگنا ایک بری اورشرمندگی والی بات ہے ایک خوداراورغیرت مند بندہ بھوکا مرنا گوارہ کر سکتا ہے مگر ہاتھ پیھلانےاوربھیک مانگنا پسند نہیں کرتا مگر آج کل اس بیروزگاری اور مہنگاٸ کے دورمیں کچھ لوگوں نے اس کام کوٸ پیشہ  بنالیا ہے جس سے یہ ہوا ہے کہ اصل حقدار تک حق نہیں پہنچ پاتا اور وہ بیچارہ اپنی انا اور خوداری میں کسم پسری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اس میں شک نہیں کہ ہمارے مذہب نے ساٸل کو جھڑکنے اور سخت الفاظ کہنے کی ممانت کی ہے اور جھڑکنا بھی نہیں چاہے اور پیشہ وربھکاری اس بات کا خوب فاٸدہ اٹھاتے ہیں اور مدمقابل کو زچ کر دیتے ہیں اور کچھ لیے بغیر جاتے نہیں ہیں میں جسں شاپ پر کام کرتا ہوں وہاں دن میں کافی بھکاری آتے ہیں پاکستان کے تقریباً ہر شہر اور بازار میں پیشہ ور بھکاریوں کی بھر مار ہےخیر ہماری شاپ پر ایک نوجوان اور صحت مند نوجوان بھیک مانگنے آتا ہماری شاپ کے اونر نے اسے شرم دلاٸ اور محنت کرنے کا کہا وہ خاموشی سے چلاگیا کچھ دن بعد پھر آگیا حسب عادت اونر نے پھر وہی بات کہی تو اس نے کام نہ ملنے کا بہانا کیا اونر نے کہا کہ ہماری شاپ پر کام کرو گے بھکاری ہنس کر کہنے لگا صاحب مہینے کا کتنا دوگے اونر نے کہاپندرہ بیس ہزار دے دوں گا اس بھکاری نے اپنی جیب سے دن بھر کی کماٸ نکال کر اونر کے سامنے ڈھیر کر دی اورکہا جناب گنتی کریں اونر نے گنی تو تقریباً تین ساڑھے تین ہزار روپے تھے بھکاری کہنے لگا جناب یہ میری آدھے دن کی کماٸ ہے آج میں گھر سے دیر سے آیا ہوں اونر یہ سن کر حیران رہ گیا میرے ماموں کی کریانہ کی دوکان ہے ان کی دوکان کے سامنے دو بوڑھے میاں بیوی رہتے تھے جو جنوبی پنجاب کے رہنے والے تھے اور یہاں کرایہ کے مکان میں رہ رہے تھے بھیک مانگتے تھے میاں اور بیوی الگ الگ میرے ماموں کی دوکان پر ریزگاری دیتے تھے اور لکھواتے رہتے تھے اور جب گھر جانا ہوتا تو ماموں سے حساب کروا کر پیسے لے جاتے ایک بار میں بھی ماموں کی دوکان پر کھڑا تھا تو ماٸ آٸ اور ماموں کو بولا میں نے صبح گھر جانا ہے میری نواسی بیمار ہے مجھے پیسے دے دیں ماموں نے دے دیے جو کہ پنتالیس ہزار روپے تھے اسکے جانے کے بعد میں نے ماموں سے اس ماجرے کے بارے میں پوچھا ماموں نے کہا بھیک مانگتے ہیں اور یہ چالیس دن کی کماٸ ہےاس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں اب تو جدید دور میں حکمران بھی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں کوٸ ملک کا قرض اتارنے کی مد میں کوٸ ڈیم بنانے کا کہ کر اورکچھ کورونا فنڈ عوام کو دینے کے لیےاللہ تعالی ہمارے ملک کو پیشہ ور اور انٹر نیشنل بھکاریوں سے مخفوظ رکھےآمین٠٠